(It's better to create than destroy what's unnecessary)

Showing posts with label Deputy Nazeer Ahmed. Show all posts
Showing posts with label Deputy Nazeer Ahmed. Show all posts

Tuesday, October 19, 2010

Constructing Pakistan - pg. 92

The book Ibn-ul-Waqt with these lines. The task of the Muslim loyalist reformer is further complicated by the traditional point of view. The reformer, in order to be effective must also be a pious Muslim. The novel, thus, foregrounds the importance of double negotiation: the Muslim elite will only be able to lead the Muslim masses if they do not lose their sense of self and Muslim identity in the process of dealing with the British. It was this important aspect of the native Muslim identity that forced the British to abandon their universalist project and change their policies specific to the perceptions of the natives. Respecting local religions and maintaining Muslim family law, thus, were a means of creating a hegemonic relationship.

Sunday, October 17, 2010

ابن الو قت - اختتام

حجۃالاسلام: میں امید کرتا ہوں کہ مزہب کے متعلق جو کچھ میں نے اب تک تم سے کہا پہلے حصے یعنی نفس اسلام کی نسبت تمہاری تشفی کر سکتا ہے بشرطیکہ تم کو تشفی درکار ہو اور جب اسلام کی اصلی اور حقیقی عمدگی تمہارے زہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی ، جس کی شناخت یہ ہے کہ اعمال اضطراراْ سر زد ہونے لگیں تو میری یہ بات لکھ کر رکھو کہ انگریزی وضع خود تم ہی کو بہ تقاضائے مزہب وبال معلوم ہونے لگے گی۔ رہا دوسرا حصہ یعنی اسلام کے فرقوں میں کسی فرقہ خاص کی تعین اس کو کسی دوسرے وقت پر رکھو۔

ابن الو قت - صفحہ نمبر 218

حجۃالاسلام: اگر ہم ایک گھر کی رفارم کرنا چاہیں تو اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کو جڑ بنیاد سے کھود کر پھینک دیں اور از سر نو دوسرا مکان بنا کر کھڑا کریں۔ اسی طرح مسلمانوں کی رفارم کو تو اسی وقت رفارم کہا جائے گا کہ مسلمان مسلمان رہیں، یعنی باپ دادا کے مزہب کے، وضع کے پابند ہیں ۔ دور سے الگ پہچان پڑیں کہ مسلمان ہیں اور پھر ان کے دلوں میں زمانہءحال کے مطابق ترقی کی گدگدی پیدا کی جائے۔

Friday, October 15, 2010

ابن الو قت - صفحہ نمبر 196

حجۃالاسلام: ذرا تو سوچ کر کہو، خدا بھی ہے یا تم ہی تم ہو؟

ابن الو قت - صفحہ نمبر 183

حجۃالاسلام: خیر ،آپ پوچھتے ہیں عرض کرتا ہوں کہ میرے نزدیک انگریزی تعلیم کا یہ نتیجہ تو ایک نہ ایک دن ضرور ہونا ہے کہ گورنمنٹ کا گنگا جمنی رنگ کہ کسی قدر انگریزی ہے اور کسی قدر ایشیائی اور جس کے لئے یوریشین کا لفظ نہایت مناسب ہے اور ہم اپنی زبان میں ایسا لفظ بنانا چاہیں تو مغلئی اور انگریزی کو ملا کر 'مغریزی' کہہ سکتے ہیں، غرض گورنمنٹ کا یہ دوغلا پن تو باقی رہتا نظر نہیں آتا۔ ہندوستان اور ولایت میں جو پرلے درجے کی مغایرت اور اجنبیت تھی ، یوماْ فیوماْ کم ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے چند در چند اسباب ہیں ؛ انگریزی تعلیم، انگریزی اور دیسی اخباروں کی کثرت ، ڈاک، ریل، تار، سفر ولایت کی سہولت، ہندوستانیوں اور انگریزوں دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے جاننے پہچاننے کا شوق۔ غرض جس قدر ہندوستانیوں کی آنکھیں کھلتی چلی جاتی ہیں اسی قدر ان کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ انجامِ کار ہندوستانی ضرور خواہش کریں گے کہ ہوم گورنمنٹ اور انڈین گورنمنٹ دونوں کا ایک رنگ ہو اور ولایت میں جو حقوق رعایائے سلطانی ہونے کی حیثیت سے آپ لوگوں کے تسلیم کئیے گئے ہیں اور جو اختیار آپ لوگوں کو دیئے گئے ہیں ، وہی حقوق اس ملک میں ہندوستانیوں کے تسلیم کئیے جائیں اور وہی اختیار ان کو ملیں۔

ابن الو قت - صفحہ نمبر 177

مسلمان سوائے ایک خدا کے جس کو کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا ، موجوداتِ عالم میں اس سے ارضی ہوں یا سماوی، کسی چیز کی عبادت یعنی اعلیٰ درجے کی تعظیم نہیں کرتا۔ حجۃالاسلام صاحب کے بیان کے مطابق اسلام خودداری اور بے تکلّفی اور سادگی اور توکّل اور صبر کا مجموعہ ہے۔ لیکن ہندو بندر اور سانپ اور گائے اور پیپل اور تلسی اور آگ اور پانی اور پتّھر اور چاند اور سورج ہر چیز کے آگے ماتھا ٹیکنے کو موجود ہے ، جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ آدمی سب میں ادنیٰ درجے کا مخلوق ہے اور اس کو دنیا میں ادنیٰ بن کر رہنا چاہیئے۔ حجۃالاسلام صاحب اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسلمان کار فرمائ اور حکومت کے لیئے بنایا گیا ہے ، جس طرح ہندو کارکنی اور اطاعت کے لیئے۔

ابن الو قت - صفحہ نمبر 172

ساس: اے ہے غدر کے دنوں میں کچھ ایسی گھڑی کا پیرا اس موئے فرنگی کا آیا تھا کہ بچے کی مت پھیر دی ۔ ہم سے تو ایسا چھپا یا ایسا چھپایا کہ دن کو گورے شہر میں گھسے اور رات کو ہم نے جانا کہ سارے غدر ہمارے گھر میں فرنگی چھپا رہا ۔ جس وقت فرنگی کو لائے تھے اگر ذرا بھی مجھ تو معلوم ہوتا تو میں اس کو کھڑا پانی نہ پینے دوں۔ خدا جانے کمبخت کہاں سے ہمارے گھر آمرا تھا۔ نہ آتا نہ بچہ ہاتھ سے جاتا۔ آخر میرا صبر پڑا ہی پڑا۔ کسی کی آہ کا لینا اچھا نہیں ہوتا۔ خدا نے اس کے پیچھے ایسا روگ لگایا کہ سارے سارے دن اٹونٹی کھٹوانٹی لئے پڑا رہتا تھا، آخر کو جاتے ہی بن پڑی۔ کالا منہ، خدا کرے پھر آنا نصیب نہ ہو۔

ابن الو قت - صفحہ نمبر 162

حجۃالاسلام: وقت سے پہلے کوئ مر نہیں سکتا، پھر کیوں گھبرائیں اور وعدہ پورا ہوئے پیچھے کوئ رک نہیں سکتا تو کس برتے پر اترائیں؟ اِذاجاء اجلھم لا یستاخرون سا عتہ ولا یستقدمون۔

ابن الو قت - صفحہ نمبر 160

ابن الو قت: عموماْ ہندوستانیوں کا اور خصوصاْ دیہاتیوں کا اور غرباء کا طرزِ تمدن اس طرح واقع ہوا ہے کہ ہندوستان کی سرزمین پر ہر جگہ ہیضے کا بیج موجود ہے، گرمی پڑی اور بیج پھوٹا۔

ابن الو قت - صفحہ نمبر 156

مہینہ اور تاریخ تو یاد نہیں ، پر اتنی بات کا خیال ہے کہ پانی برسنے میں دیر ہوئ، مسلمانوں نے صلاح کی کہ جمعہ کے دن عیدگاہ میں پہلے نمازِ استسقاء پڑھیں اور وہیں جمعے کی نماز ہو۔ جمعرات کو عید گاہ میں صفائ ہوئ ، شامیانے تنے، جا نمازیں بچھیں ۔ یکایک رات کو اچھا زور کا پانی برسا ، وہ سارا منصوبہ ملتوی رہا اور بدستور جمعے کی نماز جامع مسجد میں ہوئ۔ نماز کے بعد لوگ حجۃالاسلام سے ملے اور پوچھا آپ کب تشریف لا ئے؟

حجۃالاسلام: “کل بین العصر والمغرب" یہ سن کر سب نے کہا : “آہا! ہی آپ ہی کے قدموں کی برکت ہے کہ خدا نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا۔"

ابن الوقت - صفحہ نمبر153

وہ کسی کا مقولہ بہت درست ہے "عندالمصا ئب تز ھل الا حقلا" ۔ اب کسی کو اس کا مطلق خیال نہ تھا کہ ابن الوقت نے ترکِ اسلام کیا ہے یا وہ انگیزوں کے ساتھ کھاتا پیتا ہے یا قوم اور برادری اور گھر کو چھوڑ کر انگریزوں میں جا ملا ہے یا اس نے بزرگوں کے نام کا بٹا لگایا ہے یا اس نے خاندان کی آبرو کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ سارے رنج و شکوے بھول بسر کر سب کو اسی کی پڑی تھی کہ کسی طرح ابن الوقت کو اس بلا سے نجات ہو۔ اس کی پھوپھی تو اس طرح بین کر کے روتی تھیں جیسے کوئ مردے کو روتا ہے مگر ملا کی دوڑ مسجد، سب نے مل کر منتوں اور نیازوں اور چلوں اور عملوں اور دعاوں کی بھرمار کردی اور ختم خواجگاں اور "لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین" اور "امن یجیب المظطر انا دعاہ و یکشف اسوء" اور "فلم تقتلوھم و لکن اللہ قتلھم و ماریت اذرعیت و لکن اللہ رمی" اور " اللھم انا نجعلک فی نحورھم و نعوذ و بک من شرورھم " حزب البحر اور دلائل الخیرات، اور یاسین، اور صلوۃ الحاجۃ، اور یاسین، اور صلوۃ الحاجۃ اور اعمال حصر السان کے حربے صاحب کلکٹر پر چلنے شروع ہوئے۔

Tuesday, October 12, 2010

ابن الو قت - صفحہ نمبر 148

ادھر عملوں نے مثلوں کی خوب روئ دھنکی۔

ابن الو قت - صفحہ نمبر 145

صاحب کلکٹر: آپ کیوں سوکھے پتّوں اور کانٹوں کو یاد کرتے ہیں، جب کہ باغ کی ساری ہی بہار آپ ہی کے حصے میں تھی۔

ابن الوقت - صفحہ نمبر144  

کوئ ساڑھے پانچ بجتے بجتے کچہری سے سوار ہوا تو سیدھا میرٹھ کی سڑک کو ہو لیا۔ آفتاب تھا پس پشت اور ٹھنڈی ٹھنڈی پورا ہوا سامنے سے آرہی تھی۔ شاہ درے سے بھی کوئ کوس ڈیڑھ کوس آگے نکل گیا تھا کہ آفتاب نیچے لٹک آیا۔ چاندنی رات کے خیال سے دل تو ابھی لوٹنے کو نہیں چاہتا تھا مگر جمنا پر کشتیوں کا پل تھا؛ یہ تصوّر ہوا ایسا نہ ہو تاریکی میں گھوڑے کا پاوں کہیں کسی گھڑے میں جا رہے۔

Friday, October 8, 2010

ابن الوقت - صفحہ نمبر123

ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ جو شخص دین کی باتوں میں عقل کو بہت دخل دیا کرتا ہے، شروع کرتا ہے جزئیات سے، فروغ سے، متشابہات سے اور آخر کو جا پہنچتا ہے کلیات میں، اصول میں، محکمات میں جیسا کہ ابن الوقت کو پیش آیا۔

ابن الوقت - صفحہ نمبر117

انگریزی تمدّن اختیار کرنا اور شراب سے پرہیزرکھناایساہےکہ کوئ شخص کوئلوں کی دکان میں رہے اور منہ کالا نہ کرے

ابن الوقت - صفحہ نمبر117

غرض نمازپرتوانگریزیسوسائٹی کا اثر یہ دیکھا کہ پہلے وقت سے بے وقت ہوئ، پھر نوافل، پھر سنن جا کر نرے فرض رہے، ہو بھی پانچوں وقت پہلی رکعت میںسورہ عصر تو دوسری میں سورہ کوثر ، پھر جمع بین العصرین والمغربین شروع ہوا، پھر قضائےفائتہ پھر بالکل چٹ۔

Thursday, October 7, 2010

ابن الو قت - صفحہ نمبر 112

ابن ال وقت تو ان کے نزدیک نرا کافر بھی نہیں بلکہ مجموعہ کفّار تھا، حنفی، شافعی، سنّی، شیعہ، وہّابی، بدعتی، مسلمانوں کے جتنےفرقے ہندوستان میں ہیں سب کے علماء نے قرآن کی آیتوں سے، حدیژوں سے سند پکڑ پکڑ کر بالاجماع ابن الوقت کے کفر کے فتوے لکھ دئے ۔ ایک فتویٰ تو خود ہماری نظر سے بھی گزرا، فتویٰ کاہے کو تھا، اچھا خاصہ اقلیدس، کا پہلا مقالعہ معلوم ہوتا تھا، کیوں کہ مربع، مستطیل،بیضوی سب شکلوں کی تو مہریں اس میں تہیںاور پھر بعضے کفِ دست کے برابر چوڑے چکے طغرے، کیسے کیسے پیچیدہ کہ ہمایوں کی بھول بھلیاں کی کیا اصل ہے۔

Wednesday, October 6, 2010

108ابن الوقت - سفحہ نمبر

ابن الوقت: دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے تنزّل کا جو کچھ سبب ہو، ہندستان کے مسلمانوں پر تو ہندووں کے اختلاط نے بہت ہی برا اثر کیا ہے ۔ ہندووں میں رہ کر یہ بھی انھی کی طرح شکّی، ڈرپوک، پست حوصلہ، گھر گھسنے، آرام طلب ہو گئے ۔ مسلمانوں کا یہ عیب کہ انگریزوں سے پرہیز کرتے ہیں اءر اس وجہ سے انگریزی عملداری کے بہت سے فائدوں سے محروم ہیں اور یوما فیوما مفلسی اور بے وقعت ہو تے جاتے ہیں اور گورنمنٹ کو اپنی طرف سے بد ظن رکھتے ہیں یعنی مسلمانوں کی اتنی ہندویت تو انشااللہ میں دفع کر دوں گا۔

ابن الوقت - صفحہ نمبر101

ہمارے دیکھتے دیکھتے بہت سے عمدہ اور یافت کے پیشے معدوم ہو گئے اور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اب کہاں ہیں وہ ڈھاکے کے ململ، بنارس کے مشروع، اورنگ آباد کے کمخواب، بیدر کے برتن، کالپی کے کاغز، کشمیر کی شالیں، لاہور کے ریشمی ڈور، ۔

Labels