(It's better to create than destroy what's unnecessary)

Showing posts with label Khwaja Altaf Hussein Haali. Show all posts
Showing posts with label Khwaja Altaf Hussein Haali. Show all posts

Thursday, October 28, 2010

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 144

اسپین والوں نےبھی مسلمانوں کے زوالِ سلطنت کے بعد اسی طرح مسلمانوں کی نشانیاں مٹائی تھیں مگر انھوں نے اپنی حکومت کے زمانے میں ایسا کیا تھا اور ہمارے ہموطن بھائی محکوم ہونے کی حالت میں ایسے ارادے رکھتے ہیں ۔ لیکن ہم کو اطمینان رکھنا چاہئے کیونکہ جس تعلیم نے ہمارے ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں سے تعصب اور نفرت کرنا سکھا یا ہے وہی آگے چل کر ان کو یہ سبق دے گی کہ جط تک ہندو مسلمان مل جل کر نہ رہیں گے اور ایک دوسے کے مصالح کو ملحوظ نہ رکھیں گے تب تک برٹش انڈیا میں عزت حاصل نہیں کر سکتے۔

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 139

انگریزی مدارس کی تعلیم میں جس سے زیادہ تر ہندو مستفید ہوتے تھے تاریخِ ہندوستان کی وہ کتابیں جو نہایت تعصب آمیز طریقہ پر لکھی گئیں تھیںاور جن میں مسلمانوں کی برائیاں اور ظالمانہ کارروائیاں دانستہ یا نا دانستہ نہایت تفصیل کے ساتھ درج کی گئیں تھیں ۔ اس تعلیم کا ضروری نتیجہ یہ تھا کہ ہندووں کے دل میں مسلمانوں کی طرف سے نفرت اور ناگواری کا تخم جم جائے اور وہ رفتہ رفتہ ایک نہایت گھنا اور عظیم الشان درخت ہو جائے۔

Monday, October 25, 2010

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 107

تحقیقِ لفظِ نصاریٰ

سر سید مرادآباد میں ہی تھے کہ ان کو معلوم ہوا کہ بعض اضلاع میں مسلمانوں کی بعض تحریریں ایامِ غدر کی ایسی پیش ہوئیں جن میں انگریزوں کو لفظ نصاریٰ سے تعبیر کیا تھا۔ حکام نے اس لفظ کو بھی بغاوت سمجھا اور ان کے لکھنے والوں کو وہ سزائیں دی گئیںجو ان کی قسمت میں لکھی تھیں۔

Saturday, October 23, 2010

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 93

سر رشتہ تعلیم جو چند سال سے جاری ہے وہ تربیت کے لئیے ناکافی ہی نہیں بلکہ خراب کرنے والا تربیتِ اہلِ ہند کا ہے اردو زبان جس کے وسیلہ سے اکثر جگہ تعلیم جاری ہے اس کی حالت ایسی نہیں ہے جس سے تعلیم ہونا ممکن ہو۔ کینکہ جس زبان میں ہم کسی قوم کی تعلیم کا ارادہ رکھتے ہیں اس زبان کی نسبت ہم کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس میں علمی کتابیں کافی موجود ہیں بھی یا نہیں؟ کینکہ اگر یہ نہ ہو تو تعلیم ممکن نہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ زبان فی نفسہ اس قابل ہی یا نہیں کہ اس میں علمی کتابیں تصنیف ہو سکیں ؟ کینکہ پہلی بات کا تو علاج ہو سکتا ہے مگر دوسری بات لا علاج ہے ، تیسرے یہ کہ آیا وہ ایسی زبان ہے یا نہیں کہ اس میں علوم پڑھنے سے جدتِ طبع، حدتِ ذہن، سلامتِ فکر، ملکئہ عالی، قوتِ ناطقہ، پختگئیِ تقریر اور ترتیبِ دلائل کا سلیقہ پیدا ہو سکے ؟ ان تینوں باتوں میں سے اردو زبان میں کوئ بات نہیں ۔ پس گورنمنٹ پر واجب ہے کہ اس طریقہء تعلیم کو جو در حقیقت تربیت انسان کو خراب کرنے والا اور خود بخود لوگوں کے دلوں میں بد گمانی پیدا کرنے والا ہے۔ بل کل بدل دے اور اس زبان میں تربیت جاری کرے جس سے تربیت کا جو اصلی نتیجہ ہے وہ حاصل ہو"۔

میری صاف رائے ہے کہ اگر گورنمنٹ اپنی شرکت دیسی زبان میںتعلیم دینے سے بالکل اٹھا دےاور صرف انگریزی مدرسہ اور اسکول جاری رکھے تو بلا شبہ یہ بد گمانی جو رعایا کو گورنمنٹ کی طرف سے ہے جاتی رہے ۔ صاف صاف لوگ جان لیں کہ سرکار انگریزی زبان کو وسیلہ سے تربیت کرتی ہے اور انگریزی زبان بلا شبہ ایسی ہے کہ انسان کی ہر قسم کی علمی ترقی اس میں ہو سکتی ہے"۔

سر سید احمد خان

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر86

سید احمد خاں کو سرکار انگریزی کی طرف سے ضلع بجنور کا نظم و نسق سپرد تھااور وہاں کے ہندو مسلمانوں کی خانہ جنگیاں یادگار غدر ہیں۔ اس عموم بے تمیزی میں خود سید احمد خاں کے ساتھ بھی لوگ نہایت درجہ کی گستاخی اور بے توقیری کے ساتھ پیش آئے اور قریب تھا کہ ہلاک کریں عودِ تسلط کے بعد اس ضلع کے تمام با شندوں کی جان سید احمد کی مٹھی میں تھی اگر ان کے سے اختیارات کسی دوسرے کو ہوتے تو بجنور کے حصہ میں قیامت آ گئی ہوتی۔ مگر یہ معاملہ فہم، منصف مزاج،نرم دل، نیک طینت آدمی اس وقت بھی فرق کرتا تھا بغاوت اور خانہ جنگیوں میں ، مخالفت اور جہالت میں ، حملہ اور حفاظت میں ۔ اور سید احمد خاں کی بدولت بجنور ہی ایک ضلع تھا جو عواقب اور تبعاتِ غدر سے محفوظ رہا"۔

نواب محسن الملک



حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 81

انھی دنوں میں ایک شخص منیر خاں نامی مع جمیعت چار سو آدمی کے نگینے سے بجنور میں آیااور سر سید اور میر تراب علی، دپتی رحمت خاں کے قتل کے درپے ہوا ان کو بہ جبر و تحکم طلب کیا اور کہلا بھیجا کہ اگر حاضر نہ ہو گے تو بہتر نہ ہوگا۔ سر سید اور میر تراب ولی اس کے پاس گئے۔ منیر خاں نے سر سید سے مسئلہ جہاد کے بارے میں گفتگو کی۔ انھوں نے نہایت سنجیدگی سے اس کو سمجھا یا کہ شرع کے بموجب ہرگز جہاد نہیں ہے، اس نے ان کو تو رخصت کیا اور مولوی علیم اللہ رئیس کے پاس خود جا کر یہی مسئلہ پوچھا ۔ انھوں نے بڑی دلیری سے اس کے ساتھ گفتگو کی اور بہت سی دلیلوں سے اس کو قائل کیا کہ مزہب کی رو سے جہاد نہیں ہے ۔ اس روز مولوی علیم اللہ قتل ہوتے ہوتے بچے ۔ دوسرے دن منیر خاں وہاں سے دلّی چلا گیا اور وہاں جا کر لڑائی میں مارا گیا۔

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 58

سر سید کا مزکورہ بالا جلسوں میں شریک ہونا آخر کار رنگ لائے بغیر نہ رہا ۔ اگرچہ اس وقت تک دلی کے مسلمانوں میں قدیم سوسائٹی کی بہت سی خوبیاں باقی تھیں لیکن چونکہ ان کے اقبال کا خاتمہ ہو چکا تھا اس لئیے ان کی سوسائٹی میں ان خرابیوں کی آہستہ آہستہ بنیاد پڑتی جاتی تھی جن کو تنزل اور ادبار کا پیش خیمہ سمجھنا چاہئیے۔ طبیعتیں عموماْ عیش و نشاط اور راگ رنگ کی طرف مائل ہو جاتی تھیں ۔ بے فکر امیر زادے عیاشی اور لہو و لعب کی مثالیں قائم کرتے جاتے تھے اور خربوزوں کو دیکھ کر خربوزے رنگ پکڑتے جاتے تھے ۔اگرچہ سر سید سترہ اٹھارہ برس کی عمر میں متاہل ہو گئے تھے پھر بھی وہ اس متعدی مرض کے اثر سے اپنے تئیں نہ بچا سکے ۔ لیکن جیسا کہ معتبر زریعوں سے معلوم ہوا ہے ، باوجود غایت دلبستگی کے جو جنون سے کسی طرح کم نہ تھے، سر سید نے جس حیرت انگیز طریقہ سے اپنے تئیں اس دلدل سے نکالا وہ درحقیقت ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس کو ان کی اخلاقی طاقت کا سب سے پہلا کرشمہ سمجھنا چاہئیے۔ گویا یہ شعر ان کے حسبِ حال تھا:

ھزار دوام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں

جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 54

سر سید کہتے تھے کہ "اس زمانے میں میری عمر آٹھ نو برس کی ہوگی۔ تقریباْ انھیں دنوں میں راجہ رام موہن رائے جو برہمو سماج کے بانی تھے ۔ ان کو اکبر شاہ نے کلکتہ سے بلایا تھا تاکہ اضافئہ پنشن بادشاہی کے لئے ان کو لندن بھیجا جائے چنانچہ وہ بادشاہ کی طرف سے لندن بھیجے گئے اور ً1831 میں وہاں پھنچے"۔ سر سید نے لندن جانے سے پہلے ان کو متعدد دربار بادشاہی میں دیکھا تھا۔

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 49

سر سید کو مسماۃ مان بی بی نے جو ایک قدیم خیر خواہ ان کے گھرانے کی تھی پالا تھا ۔ اس لئے ان کو مان بی بی سے نہایت محبت تھی ۔ وہ پانچ برس کے تھے جب مان بی بی کا انتقال ہوا۔ ان کا بیان ہے کہ " مجھے خوب یاد ہے مان بی بی مرنے سے پانچ گھنٹے پہلے فالسہ کا شربت مجھکو پلا رہی تھی۔ جب وہ مر گئی تو مجھے اس کے مرنے کا نہایت رنج ہئوا ۔ میری والدہ نے مجھے سمجھایا کہ وہ خدا کے پاس گئی ہے۔ بہت اچھے مکان میں رہتی ہے، بہت سے نوکر چاکر اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی بہت آرام سے گزرتی ہے، تم کچھ رنج مت کرو، مجھ ان کو کہنے سے پورا یقین تھا کہ فی الواقع ایسا ہی ہے۔ مدت ہر جمعرات کو اس کی فاتحہ خوانی ہوا کرتی تھی اور کسی محتاج کو کھانا دیا جاتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ سب کھانا مان بی بی کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس نے مرتے وقت کہا تھا کہ میرا تمام زیور سید کا ہے ۔ مگر میری والدہ اس کو خیرات میں دینا چاہتی تھیں۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر تم کہو تو یہ گہنا مان بی بی کے پاس بھیج دوں ۔ میں نے کہا ہاں بھیج دو۔ والدہ نے وہ سب گہنا مختلف طرح سے خیرات میں دے دیا"۔

حیاتِ جاوید - صفحہ نمبر 48

وہ اپنے خاندان کے اکثر بچوں کی نسبت زیادہ قوی اور توانا اور ہاتھ پانو سے تندرست پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنی ماں کی زبانی بیان کرتے تھے کہ جب ان کے نانا دوسری بار کلکتہ سے دلی میں آئے اور ان کو پہلے ہی بار دیکھا تو یہ کہا کہ " یہ تو ہمارے گھر میں جاٹ پیدا ہوا ہے"۔

Tuesday, October 19, 2010

Constructing Pakistan - pg. 98

There are some obvious differences in the retrieval strategies of Hali and Naumani. While Hali, steeped in the loyalist discourse of his times, focused mainly on the social transformative history of Islam and its mastery of knowledge, Naumani's focus is more on the illustrious martial traditions of Islam. His heroes of the past are Muslim warriors who sacked empires, and changed the world, and as is evident from these lines, 'Received the throne and crown of Kisra/ and collected revenues from the Tartars.

Sunday, October 17, 2010

حیاتِ جاوید - آغاز

پیش لفظ

ابتدا میں لفظ تھا ۔ اور لفظ ہی خدا ہے"



پہلے جمادات تھے ۔ ان میں نمو پیدا ہوئی تو نباتات آئے۔ نباتات میں جبلّت پیدا ہوئی تو حیوانات پیدا ہوئے۔ ان میں شعور پیدا ہوا تو بنی نوع انسان کا وجود ہوا ۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ کائنات میں جو سب سے اچھا ہے اس سے انسان کی تخلیق ہوئی۔

Tuesday, September 28, 2010

Constructing Pakistan - pg. 71

I deem it important to explain the often-used term naheral poetry. Some people think that it means the kind of poetry associated with nacheries, or the poetry that represent the religious ideas of the nacheries. Some also think that nacheral poetry is the kind of poetry that provides an account of the fall of Muslims or nations. But this is not the case. Nacheral poetry means the kind of poetry that corresponds to natural instincts both in its words and its meaning. Words used in nacheral poetry must be taken from everyday spoken language; it must be realistic and people should be able to relate to it.
Muqaddama-e-Shair-o-Shairi

Constructing Pakistan - pg. 69

Hence, Hali has stressed the need for combining Islamic heritage with the imperatives of modernity for the progress of Indian Muslims in his long poem on the rise and fall of Islam. His final message: the Muslims of India must change with the changing times, but for that to happen, they must not forget their glorious heritage, be conscious about their present state of affairs, and chart out a course for the future. Hali, therefore, articulates the idea of nation and its rehabilitation with a combination of memory -- universal ummah -- the present -- the Muslim qaum of India -- and the future through a more nuanced negotiation of British power.

Friday, September 24, 2010

Wednesday, December 31, 2008

Muqadama-e-Shair-o-Shairi

http://www.iqbalcyberlibrary.net/Urdu-Books/969-416-202-030/

Labels